ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیف کی افواہ، 4مسلم بھائیوں کی وحشیانہ پٹائی، ایک کی موت

بیف کی افواہ، 4مسلم بھائیوں کی وحشیانہ پٹائی، ایک کی موت

Sat, 24 Jun 2017 13:34:01    S.O. News Service

ولبھ گڑھ،23؍جون(ایس اونیوز؍ایجنسی)بیف کے نام پر ملک کا ماحول اس قدر خراب کردیا گیا ہے اب بیف ہونے کی جھوٹی اطلاع پر بھی لوگ مشتعل ہوجاتے ہیں اور کسی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ تازہ واقعہ ہریانہ کے کھنڈوالی میں رہنے والے 4؍ چچاز اد مسلم بھائیوں کے ساتھ دہلی سے متھرا جانے والی ٹرین میں پیش آیا ۔ ٹرین کے مسافروں نے ان چاروں بھائیوں کی اس وحشیانہ انداز میں پٹائی کہ ان میں سے ایک 15؍ سالہ نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہوگیا جبکہ باقی تینوں کو اس نوجوان کی لاش کے ساتھ چلتی ٹرین سے ادھ مری حالت میں نیچے پھینک دیا گیا۔ فی الحال تینوں بری طرح زخمی نوجوان اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ بہرحال پولیس اور انتظامیہ حسب سابق اس معاملے میں بھی حملہ آوروں کو بچانے کی کوشش کررہا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تنازع سیٹ کے سبب ہوا اس سے بیف کی افواہ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق جنید ، اس کا بھائی ہاشم ، چچازاد بھائی محسن اور معین عید کی خریدادری کیلئے جمعرات کو صبح 5؍ بجے دہلی کے صدر بازاز سامان خریدنے کیلئے گئے تھے ، وہ بلبھ گڑھ سے ٹرین میں سوار ہوئے تھے اور اپنا مطلوبہ سامان خریدنے کے بعد شام کو پانچ بجے دہلی متھرا شٹل پسنجر ٹرین میں بیٹھ کر واپس گھر آرہے تھے۔ ان چاروں نے تغلق آباد سے ٹرین پکڑی تھی۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو کچھ مسافروں نے ان کے بیگ میں کیا ہے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ بیف لے جارہے ہیں۔ جب ان چاروں نے کہا کہ وہ ان کے سامان کو چیک کرسکتے ہیں تو مسافروں نے انہیں طعنے مارنا شروع کردیا۔ اس دوران ٹرین میں موجود کچھ شرپسندوں نے ان کے مذہب کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں گالیاں دینی شروع کیں اور جنید کی ٹوپی ایک دیگر مسافر کے سر پر رکھ دی۔ اس پر اعتراض کرنے پر ان شرپسندوں نے انہیں پیٹنا شروع کردیا۔ 

اس وحشی بھیڑ نے نہ صرف ان نوجوانوں کو بری طرح پیٹا بلکہ جب مار مار کر ادھ مرا کردیا تو اساوٹی کے قریب ٹرین سے نیچے پھینک دیا۔ اس حادثے میں تین بھائی بری طرح زخمی ہیں جبکہ ایک کی موت ہوچکی ہے اور ایک زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے ۔ جھگڑے کے بعد جنید ، ہاشم ، محسن اور معین شٹل سے اتر کر پچھلے بوگی میں چلے گئے۔ مگر شرپسند نوجوان بھی اتر کراسی بوگی میں پہنچ گئے ۔ اس دوران ہاشم نے اپنے گھر موبائل فوان سے اس واقعہ کی اطلاع دی تھی۔ جھگڑے کی خبر سن کر شاکرولبھ گڑھ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گیا ۔ معین تو بلبھ گھڑریلوے اسٹیشن پر اتر گیا۔ لیکن شاکر چڑھ گیا اور شرپسندوں نے اس پھر اترنے نہیں دیا ۔ اساوٹی کے قریب جنید کو 10؍ سے 15؍ چاقو مارے گئے ۔ ہاشم اور شاکر کو بھی چاقوؤں سے زخمی کردیا گیا۔ اس وجہ سے جنید کی تو موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ ہاشم زخمی حالت میں پڑا ہوا ہے۔ شاکر کو دہلی آل انڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں داخل کرایا گیا ہے۔ جنید کے مرنے اور اس کے دو بھائیوں کے زخمی ہونے سے پورے گاؤں میں عید کی خوشی ماتم میں بدل گئی ہے۔ جنید کی موت کے بعد گاؤں میں قانون اور امن برقرار رکھنے کے لئے جمعرات کی رات زائد پولیس فورس تعینات کی گئی تھی ۔ اس دوران مشتعل نوجوانوں نے نیشنل ہائی وے پر جا م لگانے کی کوشش بھی کی لیکن گاؤں کے بزرگوں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا۔ بزرگوں کا کہنا تھا کہ حملہ کوئی کرے اور سزا کسی دوسرے کو دی جائے یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس واقعہ کے بعد پورے گاؤں کی عید کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں نے واقعہ کو لے کر خاصا غم و غصہ ہے ۔ مگر گاؤں کے بزرگ انہیں صبر کرنے کی تلقین کررہے ہیں۔ مقتول جنید کی لاش کا پلول کے اسپتال میں پوسٹ مارٹم کرایا گیا اور اس کے بعد 3؍ بجے گاؤں کے ہی قبرستان میں اسے سپرد خاک کردیا گیا ۔ اس معاملے میں ایک گرفتاری عمل میں آئی ہے ۔ اس بارے میں جی آر پی کے افسران نے بتایا کہ جنید کو چاقو مارنے والے کی شناخت ہوگئی ہے اور اسے گرفتار کر کے سنیچر کو کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ بہرحال جی آر پی نے بھی کہا کہ یہ معاملہ بیف کا نہیں بلکہ سیٹ کے تنازع کا ہے اس لئے اسے وہ رنگ نہ دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ واضح رہے کہ اس وجہ سے انصاف پسند حلقوں میں سخت بے چینی ہے اور بیف کے نام پر بڑھتے ہوئے حملوں پر حکومت کو آڑے ہاتھو ں لیا جارہا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے حملوں پر روک لگانے کے اقدام کرے۔ 


Share: